بھارت میں کسی انفرادی صارف کے لیے، نہ FIU-IND کی طرف سے 2024 میں Binance پر لگائے گئے جرمانے نے اور نہ ہی Binance کی بعد کی رجسٹریشن نے اس پلیٹ فارم کے استعمال کو جرم بنایا۔ اگست 2024 میں Binance نے اعلان کیا کہ اس نے فنانشل انٹیلی جنس یونٹ، انڈیا (FIU-IND) کے ساتھ رپورٹنگ ادارے (reporting entity) کے طور پر رجسٹریشن کروا لی ہے۔ یہ اس کے تقریباً دو ماہ بعد ہوا جب FIU-IND نے ملک کے اینٹی منی لانڈرنگ قانون کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کیے بغیر بھارتی کلائنٹس کو خدمات دینے پر اس پر جرمانہ کیا تھا۔ جرمانے کے حکم نامے میں Binance کی کمپنیوں کے نام ہیں؛ اس میں نہ ان کے صارفین کا نام ہے اور نہ ان پر کوئی جرمانہ۔

FIU-IND کے حکم نامے کے خلاصے کے مطابق، Binance بھارت میں اپنی فراہم کردہ خدمات کی وجہ سے پہلے ہی ایک رپورٹنگ ادارہ تھا، اور جون 2024 کا جرمانہ اس حیثیت کے ساتھ PMLA کے Chapter IV اور PML Rules کے تحت آنے والی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے پر تھا۔ FIU-IND کے ساتھ رجسٹریشن یہ ذمہ داریاں پیدا نہیں کرتی، اور نہ ہی یہ ایکسچینج چلانے کا لائسنس ہے۔ یہ ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) کی منظوری نہیں، اور نہ ہی کرپٹو کی سرکاری توثیق۔ آپ کی ٹیکس ذمہ داریاں ایک الگ معاملہ ہیں، اور رجسٹریشن ان پر کوئی اثر نہیں ڈالتی۔

یہ صفحہ دیکھتا ہے کہ FIU-IND کا حکم نامہ اور Binance کا اپنا اعلان اصل میں کیا کہتے ہیں، اور لوگ کہاں ان سے وہ مطلب نکال لیتے ہیں جو ان میں موجود نہیں۔ ہماری Binance P2P اور UPI گائیڈ اپنے FAQ میں قانونی حیثیت کا ذکر کرتی ہے؛ یہ صفحہ اسی کا تفصیلی جواب ہے۔ یہاں کچھ بھی قانونی مشورہ نہیں۔ اگر بڑی رقم یا کوئی تنازع شامل ہو تو بھارت کے کسی وکیل سے بات کریں۔

FIU-IND کے ساتھ رجسٹرڈ ہونا لائسنس یافتہ ہونے جیسا نہیں

اس موضوع پر تقریباً ہر گفتگو میں دو الفاظ گڈمڈ ہو جاتے ہیں: رجسٹرڈ اور لائسنس یافتہ۔ سننے میں قریب لگتے ہیں، مگر دونوں الگ الگ چیزیں بیان کرتے ہیں۔

FIU-IND کے جون 2024 کے حکم نامے کے شائع شدہ خلاصے کے مطابق، Binance ورچوئل ڈیجیٹل اثاثوں کی خدمات فراہم کرنے والے (virtual digital asset service provider) کے طور پر کام کرتے ہوئے Prevention of Money Laundering Act, 2002 (PMLA) کی Section 2(sa)(vi) کے تحت ایک مقررہ کاروبار (designated business) کرتا ہے، اور اسی لیے اس ایکٹ کی Section 2(1)(wa) کے تحت رپورٹنگ ادارہ ہے۔

حکم نامے کا خلاصہ Binance کو اس لیے رپورٹنگ ادارہ مانتا ہے کہ وہ ورچوئل ڈیجیٹل اثاثوں کی خدمات فراہم کرنے والے کے طور پر کام کر رہا تھا، اس لیے نہیں کہ اس نے رجسٹریشن کروائی تھی؛ نوٹس اس لیے جاری ہوا کہ وہ اس حیثیت کے ساتھ آنے والی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہا تھا۔ FIU-IND کے ساتھ رجسٹریشن اسی حیثیت سے جڑا باضابطہ قدم ہے۔ نہ حکم نامے کے خلاصے میں اور نہ Binance کے اعلان میں کہیں یہ لکھا ہے کہ FIU-IND نے پلیٹ فارم کی مالی مضبوطی جانچی، اس کی مارکیٹوں کی نگرانی کی، یا اس کی مصنوعات منظور کیں۔ Binance کے اپنے اعلان کی سرخی کہتی ہے کہ اس نے رپورٹنگ ادارے کے طور پر رجسٹریشن کروائی۔ اس میں لائسنس کا لفظ نہیں۔

ایک جملے میں: Binance کا کہنا ہے کہ وہ بھارت کے اینٹی منی لانڈرنگ قانون کے تحت FIU-IND کے ساتھ رپورٹنگ ادارے کے طور پر رجسٹرڈ ہے۔ یہ ذمہ داریوں کا ایک مجموعہ ہے، نہ لائسنس، نہ RBI کی منظوری، اور نہ کسی کی رقم کی ضمانت۔

ایک عام صارف کے لیے یہ فرق کیوں اہم ہے؟ کیونکہ آن لائن زیادہ تر الجھن دو میں سے ایک سمت میں جاتی ہے۔ ایک کہتی ہے کہ Binance بھارت میں بند ہو گیا اور کبھی واپس نہیں آیا۔ دوسری کہتی ہے کہ Binance کو اب سرکاری منظوری مل گئی ہے۔ دستاویزات ان دونوں میں سے کسی کی تائید نہیں کرتیں۔

تین تاریخیں جو موجودہ صورتحال سمجھاتی ہیں: دسمبر 2023، جون 2024، اگست 2024

موجودہ صورتحال ایک ہی قدم میں نہیں آئی۔ یہ ایک نفاذی کارروائی (enforcement case) سے نکلی، اور واقعات کی ترتیب ہی بتاتی ہے کہ یہ رجسٹریشن وجود میں کیوں آئی۔

28 دسمبر 2023 کو FIU-IND نے PMLA کی Section 13 کے تحت Binance کو نوٹس جاری کیا۔ شائع شدہ خلاصے کے مطابق، وجہ یہ تھی کہ Binance اس ایکٹ کے تحت اپنی قانونی ذمہ داریوں کی پابندی کیے بغیر بھارتی کلائنٹس کو خدمات فراہم کر رہا تھا۔ نوٹس میں Binance سے کہا گیا کہ وہ وضاحت کرے کہ اس کے خلاف کارروائی کیوں نہ کی جائے۔

اس کے بعد Binance نے تحریری اور زبانی جوابات جمع کرائے۔ 19 جون 2024 کو FIU-IND کے ڈائریکٹر نے الزامات کو ثابت شدہ قرار دیا اور کل Rs 18,82,00,000 جرمانہ عائد کیا، یعنی اٹھارہ کروڑ بیاسی لاکھ بھارتی روپے۔ خلاصے میں تین خلاف ورزیاں درج ہیں، اور ہر ایک PML Rules کی شقوں کے ساتھ ملا کر پڑھی جانے والی PMLA کی Section 12(1) کی خلاف ورزی ہے: Rule 7(1)؛ Rules 3(1)(D) and 7(3)؛ اور Rule 8(2)۔ جرمانے کے ساتھ FIU-IND نے PMLA کے Chapter IV اور PML (Maintenance of Records) Rules, 2005 کی تعمیل یقینی بنانے کے لیے مخصوص ہدایات بھی جاری کیں۔

حکم نامہ یہ بھی بتاتا ہے کہ یہ کن پر لاگو ہوتا ہے: Binance Investments Co., Ltd. (Seychelles)، Binance Holdings Limited (Cayman Islands)، Binance (Switzerland) AG، یا کوئی بھی دوسرا ادارہ جو مختلف URLs کے ذریعے بھارت میں سرگرمیاں کر رہا ہو، جن میں https://www.binance.com بھی شامل ہے۔ یعنی یہ حکم نامہ گروپ کی کسی ایک کمپنی تک محدود نہیں۔

15 اگست 2024 کو Binance Square پر Binance کے آفیشل اکاؤنٹ نے اعلان کیا کہ Binance نے FIU-IND کے ساتھ رپورٹنگ ادارے کے طور پر رجسٹریشن کروا لی ہے۔ Binance نے اسے اپنی “19th global regulatory achievement” (انیسویں عالمی ریگولیٹری کامیابی) کہا، اور کہا کہ اس کی ویب سائٹ اور ایپلیکیشن “now fully accessible to Indian users” (اب بھارتی صارفین کے لیے مکمل طور پر قابلِ رسائی) ہیں۔ یہ کمپنی کا اپنی سروس کے بارے میں اپنا بیان ہے۔ یہ کوئی سرکاری نوٹس نہیں، اور اسے اسی طرح پڑھنا چاہیے۔ “now fully accessible” کے الفاظ Binance کے اپنے ہیں؛ ان سے اشارہ ملتا ہے کہ اس سے پہلے بھارت سے رسائی محدود تھی۔

FIU-IND نے جو دستاویز شائع کی وہ ایک صفحے کا خلاصہ ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ یہ خلاصہ صرف نمائندہ ہے، اس کی کوئی قانونی اہمیت نہیں، اور کسی دوسرے مقدمے میں نہ اس پر انحصار کیا جا سکتا ہے نہ اسے نظیر کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ اس حصے میں حکم نامے کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے وہ اسی خلاصے سے ہے؛ ہر نتیجے کے پیچھے کا مکمل استدلال اس میں موجود نہیں، اور یہ صفحہ اس کا اندازہ لگانے کی کوشش نہیں کرتا۔

رپورٹنگ ادارہ ہونے کا Binance کے لیے، اور آپ کے اکاؤنٹ کے لیے کیا مطلب ہے

جون 2024 کا حکم نامہ ذمہ داریوں کے دو مجموعوں کی طرف اشارہ کرتا ہے: PMLA کا Chapter IV، اور PML (Maintenance of Records) Rules, 2005۔ خلاصہ انہیں AML/CFT کے تحت رکھتا ہے، یعنی اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام۔ اسی سطح پر دیکھیں تو یہ ذمہ داریاں تین بڑی قسموں میں آتی ہیں:

  • خدمت فراہم کرنے سے پہلے اور اس کے دوران یہ تصدیق کرنا کہ کسٹمر کون ہے؛
  • کسٹمرز اور ان کی ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ رکھنا؛
  • قانون اور قواعد کے مطابق جو کچھ رپورٹ کرنا لازم ہے، وہ FIU-IND کو رپورٹ کرنا۔

خلاصہ ہر قاعدے کی تفصیل نہیں دیتا، اس لیے یہ صفحہ بھی ایسا کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔ جرمانے میں جن قواعد کے نمبر درج ہیں وہ اوپر والے حصے میں دیے گئے ہیں۔ ہر قاعدہ کیا تقاضا کرتا ہے، یہ خود قواعد میں لکھا ہے۔

آپ کے لیے اس کا عملی اثر زیادہ تر شناخت کے مرحلے پر پڑتا ہے۔ جس پلیٹ فارم پر یہ ذمہ داریاں ہوں، اس کے پاس آپ کی شناخت کی تصدیق کرنے، وہ معلومات محفوظ رکھنے، اور مزید سوالات لے کر واپس آنے کی قانونی وجہ ہوتی ہے۔ اگر Binance کوئی اور دستاویز، زیادہ واضح تصویر، یا کسی ٹرانزیکشن کے بارے میں مزید تفصیل مانگے، تو یہ درخواست ان ذمہ داریوں کے مطابق ہے جو PMLA کا Chapter IV رپورٹنگ اداروں پر عائد کرتا ہے۔ صرف اس بات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آپ نے کچھ غلط کیا ہے۔

اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ آپ جو تفصیلات دیتے ہیں وہ ایک ریکارڈ کا حصہ بنتی ہیں۔ کسی دوسرے شخص کو اپنے اکاؤنٹ سے ٹریڈ کرنے دینا، یا کسی اور کی دستاویزات سے اکاؤنٹ کھولنا، اوپر بیان کی گئی ذمہ داریوں سے سیدھا ٹکراتا ہے۔ ادائیگی کی طرف بھی یہی بات ہے: کسی مختلف نام والے UPI ہینڈل سے ادا کی گئی P2P ٹریڈ عموماً قانونی حیثیت کا سوال اٹھنے سے بہت پہلے ہی مسائل پیدا کر دیتی ہے۔

چار چیزیں جو رجسٹریشن آپ کو نہیں دیتی

زیادہ تر غلط فہمیاں رجسٹریشن کو ان چیزوں تک کھینچ لیتی ہیں جن سے اس کا کبھی تعلق ہی نہیں تھا۔ چار باتیں اکثر سامنے آتی ہیں۔

یہ لائسنس یا RBI کی منظوری نہیں۔ نہ حکم نامے کا خلاصہ اور نہ Binance کا اعلان یہ کہتا ہے کہ FIU-IND نے Binance کو ایکسچینج چلانے کا اختیار دیا، اور ریزرو بینک آف انڈیا کا ذکر دونوں میں سے کسی میں نہیں۔ جو پوسٹ Binance کو “RBI سے منظور شدہ” یا “حکومت کی طرف سے قانونی قرار دیا گیا” کہے، وہ رجسٹریشن سے وہ مطلب نکال رہی ہے جو ذرائع میں نہیں لکھا۔

یہ آپ کے بیلنس کا تحفظ نہیں۔ رپورٹنگ ادارہ ہونے کا تعلق اینٹی منی لانڈرنگ ذمہ داریوں سے ہے۔ اس صفحے کی بنیاد بننے والے کسی بھی ذریعے میں Binance پر رکھے کرپٹو کے معاوضے یا ڈپازٹ انشورنس کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا، اور کوئی بھی رجسٹریشن کو کسٹمر فنڈز کی حفاظت کا ذریعہ نہیں بتاتا۔ کسی بھی پلیٹ فارم پر کتنی رقم رکھنی ہے، یہ اب بھی آپ کا اپنا خطرے کا فیصلہ ہے۔

یہ آپ کے بینک یا پیمنٹ ایپ کے بارے میں کوئی وعدہ نہیں۔ آپ کے بینک اکاؤنٹ یا UPI ایپ سے ٹرانسفر ہوگا یا نہیں، یہ وہ بینک یا پیمنٹ فراہم کنندہ اپنی حدود اور جانچ کے تحت طے کرتا ہے۔ کسی پلیٹ فارم کی FIU-IND کے ساتھ رجسٹریشن ان میں کوئی تبدیلی نہیں لاتی۔ ہماری موبائل منی کی حدود اور KYC درجات والی گائیڈ بتاتی ہے کہ ادائیگی کا نظام اور ایکسچینج کا نظام الگ الگ کیوں ہیں۔ وہ بنیادی طور پر موبائل منی والی مارکیٹوں کے لیے لکھی گئی ہے، مگر یہ تقسیم یہاں بھی لاگو ہوتی ہے۔

یہ ٹیکس کلیئرنس نہیں۔ رجسٹرڈ ہونا اس بارے میں کچھ نہیں کہتا کہ آپ پر کتنا ٹیکس بنتا ہے یا ٹیکس کے لیے کیا رپورٹ ہوتا ہے۔ یہ ایک الگ محکمے کا معاملہ ہے، جس پر اگلے حصے میں بات ہے۔

جن دوسرے ممالک پر ہم لکھتے ہیں، ان میں سے ہر ایک کی صورتحال مختلف ہے: پاکستان اور کینیا میں اس کے لیے مخصوص قوانین ہیں، سری لنکا میں ابھی کوئی نہیں، اور بنگلہ دیش میں مرکزی بینک کا سرکلر کہتا ہے کہ ان لین دین کی اجازت نہیں۔

کیا ٹیکس بھی اس میں شامل ہے؟ صرف ایک جگہ پر

ٹیکس ایک مختلف قانون اور مختلف محکمے کے تحت آتا ہے۔ FIU-IND رجسٹریشن کا تعلق منی لانڈرنگ کی روک تھام سے ہے۔ انکم ٹیکس، انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کا معاملہ ہے۔

جہاں یہ دونوں ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں، وہ TDS ہے۔ ورچوئل ڈیجیٹل اثاثوں کی بعض منتقلیوں پر TDS لاگو ہوتا ہے، اور اس TDS کی رپورٹنگ لازم ہے۔ پرانے انکم ٹیکس ایکٹ کے تحت، محکمے کا TDS Compliance FAQ بتاتا ہے کہ Section 194S کے تحت ورچوئل ڈیجیٹل اثاثوں کی منتقلی پر TDS کا TDS-cum-challan اسٹیٹمنٹ Form 26QE ہے۔

یکم اپریل 2026 کو یہ بدل گیا۔ Income Tax Act, 2025 اس تاریخ یا اس کے بعد کے واقعات پر لاگو ہوتا ہے، اور اس میں سیکشنز کی نمبرنگ مختلف ہے۔ اسی FAQ کے مطابق، جہاں کریڈٹ یا ادائیگی 31 مارچ 2026 یا اس سے پہلے ہوئی ہو، وہاں پرانے ایکٹ والے فارم ہی لاگو رہتے ہیں۔ یکم اپریل 2026 یا اس کے بعد کے واقعات کے لیے اسٹیٹمنٹ نئے ایکٹ کے تحت جمع ہوتا ہے، اور Income Tax Rules, 2026 کے تحت ایک مشترکہ Form No. 141 استعمال کیا جا سکتا ہے۔

یہ صفحہ کوئی شرح، حد یا فائلنگ کے مراحل نہیں بتاتا۔ یہ آپ کی اپنی صورتحال پر منحصر ہیں، اور قواعد ابھی تبدیلی کے درمیانی مرحلے میں ہیں۔ اپریل 2026 سے پہلے لکھے گئے مضامین پرانے فارم بیان کرتے ہیں، جو اب صرف پہلے کی ٹرانزیکشنز پر لاگو ہوتے ہیں، اس لیے کسی تحریر پر انحصار کرنے سے پہلے دیکھ لیں کہ وہ کس قانون کے تحت لکھی گئی ہے۔ جو کچھ آپ پر لاگو ہوتا ہے، اس کے لیے اس صفحے کے آخر میں دیے گئے انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کے FAQ سے شروع کریں اور تفصیلات کسی ٹیکس ماہر کے سامنے رکھیں۔

جس دن آپ یہ پڑھ رہے ہیں، اس دن کی صورتحال کیسے چیک کریں؟

اوپر لکھی ہر بات ستمبر 2026 میں جانچی گئی۔ ریگولیٹری صورتحال بدلتی رہتی ہے، اس لیے اس صفحے، یا کسی بھی صفحے، پر ہمیشہ کے لیے بھروسا کرنے سے زیادہ مفید یہ جاننا ہے کہ کہاں دیکھنا ہے۔

ریگولیٹر کی کسی بھی بات کے لیے FIU-IND کی اپنی ویب سائٹ fiuindia.gov.in پر جائیں۔ یہاں زیرِ بحث جون 2024 کے حکم نامے کا خلاصہ وہیں شائع ہوا ہے۔ Binance کے مؤقف کے لیے اس کے تصدیق شدہ آفیشل چینلز کے اعلانات دیکھیں، اور انہیں کمپنی کی طرف سے اپنی پوزیشن کا بیان سمجھ کر پڑھیں۔ TDS کے فارمز اور آخری تاریخوں کے لیے انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کا پورٹل ہی ذریعہ ہے۔

دو عادتیں بہت سی الجھن سے بچاتی ہیں۔ جو کچھ پڑھ رہے ہیں اس کی تاریخ دیکھیں: 15 اگست 2024 سے پہلے کی تحریریں، یعنی اس اعلان سے پہلے کی جس میں Binance نے کہا کہ اس کی ویب سائٹ اور ایپ اب بھارتی صارفین کے لیے مکمل طور پر قابلِ رسائی ہیں، ایک مختلف صورتحال بیان کرتی ہیں۔ اور چیٹ گروپس میں گردش کرنے والے “سرکلرز” کے اسکرین شاٹس سے محتاط رہیں۔ اگر کسی سرکاری ادارے نے کچھ کہا ہے تو وہ اسی ادارے کی ویب سائٹ پر موجود ہوگا۔

اگر آپ کو اصل میں بھارتی روپوں سے USDT خریدنے کا عملی طریقہ چاہیے، تو وہ ہماری UPI گائیڈ میں قدم بہ قدم موجود ہے۔ وہ صفحہ بتاتا ہے کہ P2P کیسے کام کرتا ہے۔ وہ یہاں قانونی حیثیت کے بارے میں لکھی کسی بات کو نہیں بدلتا۔

اس صفحے کے ذرائع، ستمبر 2026 میں جانچے گئے: FIU-IND Order in original No. 10/DIR/FIU-IND/2024 in the matter of Binance u/s Section 13, dated 19.06.2024؛ Binance Registered as a Reporting Entity with India’s Financial Intelligence Unit، جو Binance نے 15 اگست 2024 کو Binance Square پر پوسٹ کیا؛ اور انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کا TDS Compliance FAQ۔

بھارت میں Binance کے بارے میں قارئین کے دوسرے سوالات

کیا بھارت میں Binance پر پابندی ہے؟

نہیں۔ FIU-IND نے جون 2024 میں PMLA کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کیے بغیر بھارتی کلائنٹس کو خدمات دینے پر Binance پر جرمانہ کیا، اور Binance نے اگست 2024 میں FIU-IND کے ساتھ رپورٹنگ ادارے کے طور پر اپنی رجسٹریشن کا اعلان کیا۔ دونوں کا تعلق Binance کی اپنی ذمہ داریوں سے ہے؛ ان میں سے کوئی بھی انفرادی صارفین پر نہ جرمانہ عائد کرتا ہے اور نہ کوئی نیا جرم بناتا ہے۔

کیا FIU-IND رجسٹریشن کا مطلب ہے کہ Binance بھارت میں لائسنس یافتہ ہے؟

نہیں۔ Binance کا کہنا ہے کہ اس نے Prevention of Money Laundering Act کے تحت FIU-IND کے ساتھ رپورٹنگ ادارے کے طور پر رجسٹریشن کروائی۔ اینٹی منی لانڈرنگ ذمہ داریاں بھارت میں ورچوئل ڈیجیٹل اثاثوں کی خدمات فراہم کرنے والے کے طور پر کام کرنے سے آتی ہیں، خود رجسٹریشن سے نہیں۔ رجسٹریشن نہ لائسنس ہے، نہ ریزرو بینک آف انڈیا کی منظوری، اور نہ کسٹمر فنڈز کی ضمانت۔

بھارت میں Binance پر کتنا جرمانہ ہوا؟

FIU-IND کے 19 جون 2024 کے حکم نامے کے شائع شدہ خلاصے کے مطابق، کل جرمانہ Rs 18,82,00,000 تھا، یعنی اٹھارہ کروڑ بیاسی لاکھ بھارتی روپے، جو PML Rules کی شقوں کے ساتھ ملا کر پڑھی جانے والی PMLA کی Section 12(1) کی خلاف ورزیوں پر عائد ہوا۔

Binance بھارتی صارفین سے زیادہ تصدیق کیوں مانگتا ہے؟

رپورٹنگ ادارہ ہونے کی وجہ سے Binance پر PMLA کے Chapter IV اور PML (Maintenance of Records) Rules, 2005 کے تحت شناخت، ریکارڈ رکھنے اور رپورٹنگ کی ذمہ داریاں ہیں۔ دستاویزات کی درخواست ان ذمہ داریوں کے مطابق ہے، اور صرف اس سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ آپ نے کچھ غلط کیا ہے۔

کیا رجسٹریشن سے میرا کرپٹو ٹیکس بدلتا ہے؟

نہیں۔ ٹیکس کا معاملہ انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ ایک الگ قانون کے تحت دیکھتا ہے۔ ورچوئل ڈیجیٹل اثاثوں کی بعض منتقلیوں پر TDS لاگو ہوتا ہے؛ یکم اپریل 2026 یا اس کے بعد کے واقعات کے لیے TDS اسٹیٹمنٹ Income Tax Act, 2025 کے تحت جمع ہوتا ہے، جہاں ایک مشترکہ Form No. 141 استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تازہ تفصیلات کے لیے محکمے کا TDS Compliance FAQ دیکھیں۔